|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

بنی اسرائیل نے سونے کا بچھڑا بنا کر کس وقت شرک کیا؟

No media found.

بنی اسرائیل نے شرک اس وقت کیا جب موسیٰؑ کوہِ طور پر اللہ سے کلام کے لیے گئے اور وہ چالیس دن تک واپس نہ آئے۔ ان کے جانے کے دوران سامری نے ایک سونے کا بچھڑا بنا کر انہیں بہکایا، اور انہوں نے اس کی عبادت شروع کر دی۔ یہ فرعون سے نجات پانے کے بعد سب سے بڑا جرم تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ
اور موسیٰ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے ایک بچھڑے کا پُتلا بنایا جس کی آواز بھی تھی۔ کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ انہیں راستہ دکھاتا ہے؟ انہوں نے اسے (معبود) بنا لیا اور وہ ظالم تھے۔ (الاعراف: 148)

نبی ﷺ نے فرمایا
تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کون ہو سکتا ہے؟
(صحيح البخاري:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3456)

یہ واقعہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ جب انسان اللہ کی ہدایت سے غافل ہو اور اجتماعیت سے دور ہو، تو شرک اور بدعت میں گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ مسلمان ہر حال میں توحید پر قائم رہے، اور خواہشات یا گمراہ رہنماؤں کے پیچھے نہ لگے بلکہ انکا کفر کرے۔

Video Short Clips

Log In to Your Account