اللہ تعالیٰ نے اصحابِ الفیل کو پرندوں کے جھنڈ (طَیْرًا أَبَابِیلَ) کے ذریعے ہلاک کیا، جو ان پر سخت کنکریلے پتھروں (سِجِّیل) کی بارش کرتے تھے۔
قرآن کہتا ہے کہ
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ
اور (اللہ نے) ان پر پرندوں کے جھنڈ بھیجے، جو ان پر کنکریلے پتھر برساتے تھے، پھر ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھوسہ۔
(الفیل: 3-5)
یعنی طاقتور لشکر اور بڑے بڑے ہاتھی اللہ کی معمولی مخلوق، پرندوں اور کنکریوں کے سامنے بے بس ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ جب چاہے کمزور مخلوق کے ذریعے بھی بڑے سے بڑے جابر کو ہلاک کر دیتا ہے، تاکہ انسانوں کو توحید اور عاجزی کا سبق ملے۔